کامل ہربل https://blog.kamilherbal.com Mon, 14 Jul 2025 03:58:16 +0000 ur hourly 1 https://wordpress.org/?v=6.9 https://blog.kamilherbal.com/wp-content/uploads/2020/04/cropped-300-DPI-logo-scaled-1-150x150.jpg کامل ہربل https://blog.kamilherbal.com 32 32 رنگ و روشنی سے علاج – قدرتی، سادہ اور مؤثر تھراپی کا مکمل جائزہ https://blog.kamilherbal.com/health/chromotherapy/ Sun, 13 Jul 2025 08:36:47 +0000 https://blog.kamilherbal.com/?p=1265 رنگ و روشنی سے علاج – مکمل اور تفصیلی گائیڈ

تعارف

رنگ و روشنی سے علاج (Color and Light Therapy or  Chromotherapy) ایک  قدرتی، دوا کے بغیر  مکمل طور پر محفوظ طریقہ علاج ہے جو جسمانی، ذہنی اور جذباتی توازن قائم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس میں مخصوص رنگوں یا روشنی کی توانائی سے جسم پر مثبت اثرات ڈالے جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں یہ متبادل علاج کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے، خصوصاً ان لوگوں میں جو قدرتی طریقہ علاج کو ترجیح دیتے ہیں۔

تاریخی پس منظر

رنگ و روشنی کا علاج کوئی نیا تصور نہیں ہے۔

قدیم مصر میں سورج کی روشنی کو مختلف رنگین شیشوں کے ذریعے جسم پر ڈال کر علاج کیا جاتا تھا۔

یونانی طبیب بقراط نے روشنی کے استعمال کو جسمانی توازن کے لیے اہم قرار دیا۔

ہندوستانی آیوروید میں ہر رنگ کو جسم کے ایک مخصوص توانائی مرکز (چکر) سے جوڑا جاتا ہے۔

چینی طب میں رنگوں کو توانائی (Qi) کے بہاؤ سے منسلک کیا جاتا ہے۔

رنگوں کے طبی فوائد

ہر رنگ کی مخصوص طول موج (wavelength) اور فریکوئنسی ہوتی ہے جو انسانی جسم پر الگ اثر ڈالتی ہے۔ درج ذیل رنگوں کے بنیادی اثرات ملاحظہ کریں:

رنگ تھراپی کے عملی طریقے

جسمانی اور ذہنی اثرات رنگ
توانائی میں اضافہ، خون کی روانی میں بہتری، سستی میں کمی 🔴 سرخ
تخلیقی صلاحیت، خوشی، تولیدی صحت 🟠 نارنجی
بہتر ہاضمہ، ذہنی الجھن میں کمی، دماغی توازن 🟡 پیلا
دل کی صحت، سکون، بلڈ پریشر میں توازن 🟢 سبز
تناؤ میں کمی، نیند میں بہتری، گلے اور سانس کی بہتری 🔵 نیلا
ذہنی سکون، تخلیقی سوچ، تخیل میں اضافہ 🟣 جامنی
پاکیزگی، روحانی سکون، توجہ میں اضافہ ⚪ سفید
  1. رنگین روشنی کا استعمال: مخصوص رنگ کی LED لائٹ یا فلٹر لائٹ جسم پر ڈالی جاتی ہے۔
  2. رنگین پانی (Solarized Water): رنگین شیشے کی بوتل میں پانی ڈال کر دھوپ میں رکھا جاتا ہے، پھر وہ پانی استعمال کیا جاتا ہے۔
  3. رنگین ماحول: کمرے، دیوار، پردے، اور لائٹنگ کو مخصوص رنگوں میں رکھنا۔
  4. رنگین کپڑے: مخصوص رنگ کے کپڑے پہننے سے ذہنی و جسمانی اثرات ہوتے ہیں۔
  5. مراقبہ اور تصور: آنکھیں بند کر کے مخصوص رنگ کا تصور کرنا اور سانس کی مشقیں کرنا۔

کن بیماریوں میں مؤثر؟

رنگ و روشنی سے علاج مندرجہ ذیل مسائل میں مفید ثابت ہو سکتا ہے:

  • ذہنی دباؤ (Depression)
  • بے خوابی (Insomnia)
  • تھکن اور کمزوری
  • جلدی بیماریاں (Eczema, Psoriasis)
  • بلڈ پریشر کی بے ترتیبی
  • سانس کی تکالیف
  • خواتین میں ہارمونل مسائل
  • بچوں میں یرقان (Phototherapy)

سائنسی نکتہ نظر

  • نیلی روشنی تناؤ کم کرنے اور نیند بہتر بنانے میں مؤثر سمجھی جاتی ہے۔
  • سرخ رنگ خون کے بہاؤ اور توانائی کو بڑھاتا ہے۔
  • سبز رنگ کا اثر دل اور اعصاب کو پر سکون رکھتا ہے۔
  • بچوں کے یرقان میں فوٹو تھراپی ایک منظور شدہ طبی علاج ہے۔

اسلامی نکتہ نظر

  • قرآن میں روشنی (نور) کو ہدایت، پاکیزگی اور شفاء کا ذریعہ کہا گیا ہے۔
  • نبی کریم ﷺ نے صبح کی روشنی اور ہوا کو صحت بخش قرار دیا۔
  • سبز رنگ اسلامی معاشرت میں سکون، فطرت، اور روحانیت کی علامت ہے۔

فوائد کا خلاصہ

  • دوا کے بغیر قدرتی علاج
  • جسمانی و ذہنی سکون
  • سستا، آسان اور سائیڈ افیکٹ سے پاک
  • روزمرہ زندگی میں شامل کیا جا سکتا ہے

احتیاطی تدابیر

  • مرگی یا روشنی کی حساسیت والے افراد رنگ تھراپی ماہر کی نگرانی میں کریں۔
  • زیادہ دیر تک براہِ راست روشنی سے بچیں، خاص طور پر آنکھوں کے قریب۔
  • مکمل علاج کے لیے اپنے معالج سے مشورہ ضرور لیں۔

نتیجہ

رنگ و روشنی سے علاج ایک فطری، غیر مضر اور مکمل متبادل تھراپی ہے جو جسم، دماغ اور جذبات پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔ اگر آپ بغیر دوا کے شفاء چاہتے ہیں تو یہ طریقہ آزمائیں۔ سائنسی بنیادوں اور اسلامی اصولوں کے مطابق بھی یہ طریقہ قابل قبول ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

کیا رنگ تھراپی واقعی فائدہ مند ہے؟
جی ہاں، خاص طور پر ذہنی اور جذباتی مسائل میں یہ ایک مؤثر متبادل علاج ہے۔

کیا بچے اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟
جی ہاں، نیونٹل فوٹو تھراپی اسی کا ایک جدید استعمال ہے۔

کیا اس کا کوئی سائیڈ افیکٹ ہے؟
عام طور پر محفوظ ہے، مگر حساس افراد کو ماہر کی رہنمائی لینا چاہیے۔

]]>
نیم (Margosa) کے خواص، فوائد اور استعمال https://blog.kamilherbal.com/herbs-properties/%d9%86%db%8c%d9%85/ Fri, 01 Apr 2022 06:01:45 +0000 https://www.kamilherbal.com/?p=1152 نیم ( نمولی ) جلدی امراض خصوصاً خارش میں اس کے پتوں کے جوشاندے سے غسل کرنا مفید ہے۔ مصفیٰ خون ہونے کی وجہ سے تقریباً جلدی اور فساد خون کے امراض میں مختلف طریقوں سے استعمال کیاجاتا ہے۔

مختلف نام

مشہور نام: نیم

ہندی: نم، نمب

سنسکرت: نمب

بنگالی: کاچھ

مرہٹی: کنڈونبھ

گجراتی: سینڈو

فارسی: نیب

انگریزی: ایزاڈرک (azadirachta Indica)

لاطینی: مارگوسا (Margosa)

شناخت

ہندوستان و پاکستان کا مشہور درخت ہے، جس کے پتے آری کی طرح دندانے دار، پھول گچھے دار، ونگ کی شکل کے مگر چھوٹے چھوٹے، رنگ میں سفیدی مائل ہوتے ہیں۔ اس کے پھل کو نمول کہتے ہیں۔

نیم کا پودا
نیم کا پودا

نفع خاص

مصفیٰ خون ،دافع تعفن۔

نیم کا مزاج

گرم خشک، درجہ اول، سرد خشک۔

مضر

کرب پیدا کرتا ہے۔

مصلح

شہد، مرچ سیاہ اور روغنیات۔

مقدارخوراک

سبز پتے اور چھال چھ گرام سے دس گرام۔

مقدار خوراک تیل

بیس سے تیس قطرے۔

گل منڈی بوٹی کے خواص، فوائد اور استعمال

مکو (عنب الثلعب) کے خواص، فوائد اور استعمال

ملٹھی (Liquorice) کے خواص، فوائد اور استعمال

فوائد

مصفیٰ خون، مدر ایام، بواسیر، بخار، پیٹ کے کیڑوں وغیرہ کے لیے بہت مفید ہے۔ اس کا تیل فیملی پلاننگ کے مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مفصل فوائد درج ذیل ہیں:

بواسیر

ایک عدد مغز بیج نیم خشک کو صبح و شام گاۓ کے مکھن تین ماشہ میں نگلنا بواسیر کے لیے مفید ہے۔

پھوڑے و زخم

نیم کے پتوں کا بھرتہ بنا کر پھوڑوں پر باندھنا اور زخموں پر پتوں کا سفوف چھڑکنا بہت مفید ہے۔

ملیریا

نیم کے پتے چھ تولہ میں مغز کرنجوہ تین تولہ، مرچ سیاہ ایک تولہ ملا کر کھرل کریں اور گولیاں بقدر نخود بنائیں۔ خوراک ایک سے دو گولی ملیریائی بخاروں کے لیے مفید ہے۔

فیملی پلاننگ کے لیے نیم کا استعمال

نمولی کا تیل فیملی پلاننگ کے لیے بہت مفید ہے۔ تیل نیم کیڑے مارنے والا ہوتا ہے۔ اس لیے اس تیل کے اثر سے ویرج کے کیڑے ضائع ہو جاتے ہیں۔ اسفنج سے ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ مکمل ویرج جذب کر لیتا ہے۔

دیگر

بنولے کا تیل ایک تولہ، نمولی کا تیل ایک تولہ، ہر دو کو ملائیں اور روئی سے بھگو کر ملاپ سے پہلے یونی میں رکھ دیں۔ حمل نہیں ٹھہرے گا نہایت مجرب اور بے ضرر نسخہ ہے۔ (ہری چند ملتانی)

نیم کے آسان مجربات

یرقان

نیم کی سبز پتیاں 9 ماشہ، تھوڑا تھوڑا پانی ڈال کر گھوٹیں، جب باریک ہو جاۓ اور پاؤ بھر پانی رہ جاۓ، تو چھان کر یرقان کے مریض کو اول پانچ رتی سوڈابائیکارب کھلا کر اوپر سے شیرہ برگ نیم پلادیں۔ چار پانچ روز کے استعمال سے یرقان رفع ہو گا۔ ایک برگزیدہ سادھو کا آزمودہ نسخہ ہے۔

فساد خون

برگ نیم سبز ایک تولہ کو نسخہ نمبر 1 کے طریقہ سے گھوٹ کر چھان لیں۔ اس میں دو تولہ شہد خالص ملا کر اول مریض کو چھ ماشہ سفوف چوب چینی کھلا کر اوپر سے پلا دیں۔ چالیس روز متواتر استعمال کرنے سے خارش، داد، پھوڑا، پھنسی کا تو کیا ذکر زہریلے امراض بھی دور ہو جاتے ہیں۔

پرہیز: ترشی، تیل، سرخ مرچ، اگر نمک کم کھائیں تو بہت فائدہ ہو گا۔

بواسیر

برگ نیم سبز 9 ماشہ، مرچ سیا دس دانہ، گھوٹ کر آدھ پاؤ تین چھٹانک پانی ملا کر پینے سے بواسیر بادی و خونی ہر دو کو آرام ہوتا ہے۔

زہریلے زخم

صرف نیم کے تیل کی متواتر مالش، کوڑھ کے لیے ازحد مفید ہے۔ خارش پر بھی اس کا استعمال مفید ہے۔

خارش

برگ نیم چھ ماشہ، برگ سبز بکائن (دھریک) چھ ماشہ، مرچ سیاہ دس دانہ، ہر سہ کو پانی میں گھوٹ چھان کر پینے سے خارش خشک وتر کو آرام ہوتا ہے۔

زخم

برگ نیم سبز، برگ بکائن، اکاس بیل تازہ ہر ایک ایک تولہ لے کر گھوٹیں اور پانی کی مدد سے نغدہ بنائیں، بعدہ روغن کنجد دس تولہ میں ڈال کر آگ پر رکھیں، جب نغدہ جل کر سیاہ ہو جاۓ تو ٹھنڈا ہونے پر ململ کے کپڑے سے چھان لیں۔ اس صاف شدہ تیل کو پھنسیوں اور زخموں کے لیے مفید ہے۔ برگ نیم کے جوشاندہ سے زخم دھو کر خشک کر کے پھایہ رکھیں۔

طاعون

برگ نیم سبز ایک حصہ، جدوار (نر بسی) ایک حصہ، مرچ سیاہ نصف حصہ کو اچھی طرح باریک کر کے حبوب بقدر نخود بنائیں، چاریا پانچ گولی روزانہ پانی کے ساتھ کھانے سے طاعون کی وبا سے محفوظ و مامون رہیں گے۔ حفظ ما تقدم طاعون کے لیے یہ کم خرچ بالا نشین نسخہ مجرب و آزمودہ ہے۔ برادران دیہات بنا کر فائدہ اٹھائیں۔

ایام وبا طاعون میں برگ نیم کو جوشاندہ سے نہانا بھی وبا کے اثر سے محفوظ رکھتا ہے۔ نہانے کے لیے جوشاندہ اس طرح بنائیں:

برگ نیم سبز پاؤ بھر (جہاں سبز پاؤ نہ ملے وہاں خشک پتے چھٹانک بھر) کوکونڈی ڈنڈے سے اچھی طرح کچل کر تین چار سیر پانی میں ابال لیں۔ جب پتے گل جائیں تو اس میں دس پندرہ سیر پانی ملا کر غسل کریں۔

دیگر

نیم کے پتے خشک شدہ کو ایام وبا میں مکانات کے اندر جلا کر ان کی دھونی دینا بھی مفید ثابت ہوا ہے۔ اس کے دھواں سے چوہوں پر بیٹھنے والے طاعونی پسورفع ہو جاتے ہیں۔

کان درد

برگ سبز نیم کے گرم گرم جوشاندہ کی بھاپ کان میں دینا کان کے درد اور ورم کو آرام دیتا ہے۔

بندش ایام

نیم کے سبز پتوں کا رس ڈیڑھ تولہ، ادرک کا رس 9 ماشہ، کالی مرچ، (مکو) کے سبز پتوں کا رس ایک تولہ، شربت دینار 9 ماشہ، ہر سہ ملا کر (یہ ایک خوراک ہے) صبح و شام دو دفعہ پلانا اور نیم کے سبز پتوں اور کاچ ماچ کے سبز پتوں کو ابال کر روغن کنجد (تل کے تیل) میں تل کے بقدر برداشت پٹیرو پر بندھوانے سے آرام آ جاتا ہے۔

نیم کے پتے اور بیج

دواۓ طاعون

برگ نیم سبز ایک حصہ، مرچ سیاہ نصف حصہ، کو کونڈی میں نیم کے سبز ڈنڈا سے گھوٹ کر نخود کے برابر گولیاں بنالیں، اور چار پانچ گولیاں روزانہ کھلانا طاعون سے محفوظ رکھتا ہے۔

نوٹ: 1907 میں جب کہ طاعون نے ملک پر یورش بولی ہوئی تھی تو مسٹر روشن لال صاحب بیرسٹر بار ایٹ لاء لاہور نے ایک پمفلٹ چھپوا کر مفت تقسیم کیا تھا۔ مندرجہ بالا نسخہ طاعون درج فرماتے ہوۓ آپ نے لکھا تھا کہ 1904 میں جب طاعون کا اول ہی اول لاہور میں زور ہوا میرے ذمہ ایک حصہ چنگڑ محلہ کا بھی تھا۔ میں نے سب کو ہدایت کی کہ نیم کا خوب استعمال کرو اور یہ نسخہ بتلایا، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔

جس سے اس سال اس محلہ کی اس حصہ میں جو میرے سپرد تھا کسی کو بھی طاعون کی شکایت نہ ہوئی۔ بلکہ سب نے ان گولیوں کی تعریف کی، ان گولیوں کو جہاں تک مچھ سے ہو سکا اس سال مفت تقسیم کیا اور اس وقت مجھے ایک آدمی بھی معلوم نہیں ہوا جسے ان گولیوں کے استعمال کے باوجود پلیگ ہوا۔

جوئیں

برگ نیم کے جوشاندہ سے سر دھونا سر کی جوؤں کو ہلاک کر تا ہے۔

نکسیر

برگ سبز نمولی ایک حصہ اور اجوائن نصف حصہ، برف کے پانی میں پیس کر پیشانی پر لیپ کرنے سے نکسیر بند ہو جاتی ہے۔ ضروری نہیں کہ برف کا پانی ہی ہو۔ گھڑے کا سرد پانی بھی فائدہ دے سکتا ہے۔

ملیریا

برگ سبز نیم ایک حصہ، برگ رام تلسی ایک حصہ، مرچ سیاہ نصف حصہ، ہر سہ کوکھرل کر کے بقدر نخودی گولیاں بنائیں۔ ملیریا کا نہایت سستا علاج ہے۔

زہریلے زخم

برگ سبز نیم اور برگ سبز ارنڈ ہر دو ہم وزن لے کر سایہ میں خشک کر کے پیس لیں۔ چار ماشہ صبح و شام پانی کے ساتھ چالیس روز استعمال کرنے سے زہریلے زخم دور ہو جاتے ہیں۔

فساد خون

سبز برگ نیم ایک پاؤ پختہ لے کر سل بٹہ یا کونڈی ڈنڈا سے پیس لیں، پھر اسے پانی کی بالٹی میں ڈال کر مدھانی سے دہی کی لسی کی طرح خوب متھیں۔ جب متھنے سے خوب جھاگ پیدا ہو تو یہ جھاگ بدن پر ملنے سے چمڑہ کی جلن خواہ یہ خرابی خون کی وجہ سے ہو یا تیز دھوپ اور لو لگنے سے ہو دور ہو جاتی ہے۔ جلد میں ٹھنڈک پڑ جاتی ہے۔ اگر اس میں بقدر ضرورت کافور کا بھی اضافہ کیا جائے تو اس سے اثر دوبالا ہو جاتا ہے۔

نیم سے سفید بالوں کا علاج

کافی عرصہ کا واقعہ ہے کہ میرے والد بزرگ مرحوم کو موضع پاجیاں، ضلع کپور تھلہ میں ایک سادھو مہاتما ملے۔ جن کے اسی سال کی عمر میں بھی بال جو ان آدمیوں کی طرح تھے، مگر کان بہرے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ جوانی میں جب میرے بال سفید ہونے لگتے تو میں نے نیم کا پنچانگ استعمال کیا، جس سے بال ابھی تک سیاہ ہیں مگر کان بہرے ہو گئے ہیں۔ نسخہ درج ذیل ہے:

برگ نیم، پھل، چھال اندرونی نرم نیم، گوند نیم، یہ پانچوں اجزاء برابر وزن لے کر کوٹ پیس کر چھوٹی بیر کے برابر گولیاں تیار کریں۔ جو کہ تعداد میں تین سو ساٹھ ہوں ایک گولی صبح نہار منہ تازہ پانی سے استعمال کریں۔ ایک سال تک متواتر استعمال کریں۔ بال تمام عمر سیاہ رہیں گے۔

نوٹ: دوران استعمال بادی، بلغمی، ترشی اشیاء سے پرہیز کریں۔ گھی کا خوب استعمال کریں، دوران استعال کانوں میں نیم گرم بادام روغن ٹپکانا چاہیے اور بادام روغن کی نسوار بھی لینی چاہیے۔ کیونکہ اس سے کانوں کے بہرہ ہونے کا ڈر نہیں رہتا۔ کوئی بھی نسخہ استعمال کرنے سے پہلے اپنے معالج طبیب سے ضرور مشورہ کرلیں۔

(باوا گردھاری لال گھمانوی)

]]>
ناگ کیسر (نارمشک) کے خواص، فوائد اور استعمال https://blog.kamilherbal.com/herbs-properties/%d9%86%d8%a7%da%af-%da%a9%db%8c%d8%b3%d8%b1/ Sun, 27 Mar 2022 06:09:03 +0000 https://www.kamilherbal.com/?p=1139 ناگ کیسر کو مختلف امراض جیسے بواسیر، فساد خون، چہرے کے دھبے، خونی دست، سانپ کے زہر اور پیٹ کے کیڑوں میں بطور دوا استعمال کیا جاتا ہے۔

مختلف نام

مشہور نام: ناگ کیسر

ہندی: باگ کیسر

سنسکرت: ناگ، کنجلک

مرہٹی: ماتا مڑا، ناگ کثیر

گجراتی: ناگ کثیر

انگریزی: میسا فیرا (Mesua Ferrea)

شناخت

ایک بڑے قد کا سدا بہار درخت ہے۔ جس کا تنا صاف، سیدھا اور کھڑا ہوتا ہے۔ ٹہنیاں نرم، سروں پر چار چار کونپلیں، چھال چوتھائی انچ موٹی، سرخ رنگ، لکڑی کی رنگت سرس کی طرح، لیکن اس سے زیادہ سخت اور وزنی، نئی شاخوں کا رنگ شروع میں سرخ، پھر زرد اور آخر کار گہرا سبز ہو جاتا ہے، پتے چمڑے کی طرح سخت، پھل گول صورت کا، اس کے اندر دو خانے ہوتے ہیں۔ جو ناگ کیسر کے نام سے بازار میں ملتے ہیں۔

ناگ کیسر کا پودا
ناگ کیسر کا پودا

مزاج

مزاج دوسرے درجہ میں گرم خشک ہے۔

مقدار خوراک

تین سے پانچ گرام۔

نفع خاص

دافع بواسیر، مخرج کرم۔

مصلح

شہد۔

بدل

ناگر موتھا۔

مضر

گرم مزاجوں کے لئے۔

ناگ کیسر کا استعمال اور فوائد

مفرح ومقوی قلب ہونے کے باعث امراض قلب و دماغ مثلاً وحشت مالیخولیا اور جنون میں استعمال کرتے ہیں۔ مقوی باہ ہونے کے باعث اس کے عطر کا طلاء لگایا جاتا ہے، اور ایک رتی کے قریب پان میں کھلایا جاتا ہے۔ اسے سے باہ میں تحریک پیدا ہوتی ہے۔ دماغ پر معدہ کے بخارات چڑھنے کو روکتا ہے اور معدہ وجگر و آمعاء کو تقویت دیتا ہے۔ قابض مجفف اور مقوی امعاء ہونے کے باعث ہر قسم کی بواسیر میں اس کو کھلایا جاتا ہے۔ اگر اس کے پھول کے زیرہ رات کو بھگو کر صبح کے وقت شہد یا مصری ملا کر پلایا جائے تو خون بواسیر رک جاتا ہے۔

نک چھکنی کے خواص، فوائد اور استعمال

ملٹھی (Liquorice) کے خواص، فوائد اور استعمال

مکو (عنب الثلعب) کے خواص، فوائد اور استعمال

بیج مصفیٰ خون، دافع بوسیر، قاتل و مخرج کرم شکم، مفصل فوائد درج ذیل ہیں۔

بواسیر

پھول ناگ کیسر نو ماشہ، رات کو پانی میں بھگو کر صبح اس کے نتھار میں شکر سفید ملا کر چالیس دن استعمال کرائیں۔ بادی اور خونی بواسیر کے لیے مفید ہے۔

فساد خون

پھل ناگ کیسر 9 ماشہ کا شیرہ نکال کر دو تولہ شہد ملا کر پینا فساد خون میں مفید ہے۔

چہرے کے دھبے

ناگ کیسر کے پھول (سفوف شدہ) چھ ماشہ، ویزلین سفید ایک اونس، لیپ تیار کریں۔ رات کو منہ پر ملیں۔ صبح گرم پانی سے منہ دھو ڈالیں۔ چہرے کے داغ دھبے دور کرنے کے لیے از حد مفید ہے۔

خونی دست

ناگ کیسر تین ماشہ تازہ پانی کے ہمراہ کھلائیں۔ خونی دستوں کے لیے مفید ہے۔

سانپ کا زہر

ناگ کیسر کے پتے پیس کر کاٹے ہوۓ مقام پر لیپ کریں۔ سانپ کے زہر کو مفید ہیں۔

پیٹ کے کیڑے

ناگ کیسر کا پھل پانچ ماشہ کوٹ کر نیم گرم پانی سے دیں۔ پیٹ کے کیڑوں کو مفید ہے۔

جڑی بوٹیوں کا انسائیکلو پیڈیا

]]>
نک چھکنی کے خواص، فوائد اور استعمال https://blog.kamilherbal.com/herbs-properties/%d9%86%da%a9-%da%86%da%be%da%a9%d9%86%db%8c/ Fri, 25 Mar 2022 16:52:38 +0000 https://www.kamilherbal.com/?p=1134 نک چھکنی بوٹی ایک مفروش بوٹی ہے۔ جو سبزی مائل زرد ہوتی ہے ۔پتے چھوٹے گاجر کے پتوں کی طرح لیکن ان سے چھوٹے اور زمین پر مفروش چھتہ دار ہوتی ہے۔

مختلف نام

مشہور نام: نک چھکنی

فارسی: کندش، کندشہ

عربی: عطاس

ہندی: نک چھکنی

سنسکرت: چھکنی چھوکرت، چھلکا

بنگالی: ہالچٹی، چھکنی، ہیم چتا گاچھ

مراٹھی: تک شکنی

گجراتی: نک چھیکی

پنجابی: نک چھکنی

انگریزی: سنیز ورٹ (Sneeze Wort)

لاطینی: سینٹی پیرا ربی کیولرس

شناخت

چونکہ اس کا پتا مل کر سونگھنے سے چھینکیں آتی ہیں۔ اس لیے اس بوٹی کا نام نک چھکنی مشہور ہے۔ موسم سرما کے آخر میں ہندوستان کے جنگلات کے نمناک مقاموں پر بکثرت پیدا ہوتی ہے۔ موسم برسات کے ہر موسم میں مل جاتی ہے۔ یہ بوٹی زمین پر بچھی رہتی ہے۔ پتیاں باریک اور کئٹی ہوئی، پھول نیم کے پھول کی طرح بہت چھوٹے چھوٹے اور عام طور پر زردی مائل سفید رنگ کے ہوتے ہیں۔ ذائقہ تیز، بدمزہ اور تلخی لیے ہوۓ ہوتا ہے۔

نک چھکنی بوٹی

نک چھکنی کا مزاج

مزاج گرم اور خشک درجہ سوم۔

نفع خاص

ناک اور دماغ کے لئے۔

مضر

مکرب، مغشی اور پھیپھڑوں کے لئے۔

مصلح

کتیرا، روغن بادام یا روغن زرد۔

بدل

سن کے بیج ،چھینکوں کیلئے کائپھل

مقدارخوراک

خوراک چار رتی ہے۔ اس سے زیادہ خوراک زہریلا اثر پیدا کرتی ہے۔

نک چھکنی کے فوائد

یہ بوٹی چھینکیں لاتی ہے۔ پیٹ کے کیڑوں، لقوہ اور جوڑوں کے درد کے لیے مفید ہے۔

نسوار نک چھکنی

نک چھکنی پچیس ماشہ، لونگ پچیس عدد، سمندر پھل بارہ عدد، کستوری ایک رتی، سب کو ادرک کے رس میں پیس کر سایہ میں خشک کر لیں اور پھر سرمے کی طرح باریک کر لیں۔ اسے بطور نسوار صبح و شام سونگھنا نزلے کے لیے بہت ہی مفید ہے۔

ملٹھی (Liquorice) کے خواص، فوائد اور استعمال

مکو (عنب الثلعب) کے خواص، فوائد اور استعمال

گل منڈی بوٹی کے خواص، فوائد اور استعمال

دمہ

مچھلی کی پیٹ صاف کر کے ایک ماشہ نک چھکنی بھر کر اس پر بیسن لگا کر گھی خالص میں تل لیں، اور پھر بیسن و نک چھکنی کو دور کر کے مچھلی کھلائیں۔ بلغمی دمہ کے لیے مفید ہے۔

جڑی بوٹیوں کاانسائیکلو پیڈیا

]]>
ملٹھی (Liquorice) کے خواص، فوائد اور استعمال https://blog.kamilherbal.com/herbs-properties/%d9%85%d9%84%d9%b9%da%be%db%8c/ Thu, 24 Mar 2022 16:34:07 +0000 https://www.kamilherbal.com/?p=1126 ملٹھی ( اصل السوس ) نظام ہضم میں مدد کرتا ہے۔ اس کے استعمال کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ معدے اور پیٹ کی بیماریوں بشمول معدے کے السر، سینے کی جلن اور معدے کو متاثر کرنے والے دیگر سوزش کے مسائل کو راحت بخشتا ہے۔

مختلف نام

سنسکرت: یشت مدھو

عربی: اصل السوس

گجراتی: جیٹھی مدھو

ہندی: جیٹھی مدھو

تامل: وڈومنی بیر

انگریزی: لیکورس (Liquorice)

لاطینی: گلیسریز گلیبرا (Glycyrrhiza Glabra)

شناخت

یہ زمین پر پھیلنے والی بوٹی ہے۔ جس کی جڑیں سیدھی زمین میں کافی نیچے چلی جاتی ہیں۔ ان جڑوں کو برسات کے موسم کے بعد اکٹھا کر لیتے ہیں اور لمبے لمبے ٹکڑے کاٹ لیتے ہیں اور اس کی جڑوں کو پانی میں ابال کر چھان کر گاڑھا کر کے سکھا لیا جاتا ہے، اسے ست ملٹھی کہتے ہیں۔ اس کی ایک قسم کے بیج چمکدار لال ہوتے ہیں اور ان کا ایک سرا کالا ہوتا ہے، ان کی جڑیں اتنی میٹھی نہیں ہوتی ہیں۔ جڑ کا چھلکا باہر سے بھورا اور اندر سے پیلا ہوتا ہے۔

ملٹھی کا پودا
ملٹھی کا پودا

گل منڈی بوٹی کے خواص، فوائد اور استعمال

لاجونتی Humble Plant کے خواص

کھٹکل بوٹی Indian Sorrel کے فوائد اور استعمال

مقام پیدائش

ملٹھی ہندوستان، عراق، یورپ، مصر وغیرہ دیشوں میں کاشت بھی کرتے ہیں۔ کئی بڑے بڑے حکیموں کی رائے ہے کہ میٹھا ہونے کی وجہ سے سانپ اس کی جڑ کو چاٹا کرتا ہے۔ اس لیے ہمیشہ چھلکا چھیل کردواوں میں استعمال کرنا چاہیے۔

مقدار خوراک

دس سے پندرہ رتی تک ہونی چاہیے۔

ملٹھی مزاج

دوسرے درجہ میں گرم و خشک ہے۔

ملٹھی کے فوائد

ملٹھی کی جڑ پیشاب لانے والی قبض کو دور کرنے والی، دردوں کو دور کرنے والی اور شانتی پہنچانے والی ہے۔ کھانسی کے لیے یہ بہت مفید ہے۔ جمع ہوئی بلغم کو یہ پتلا کر کے نکال دیتی ہے۔ پیاس معدہ میں سوجن اور جلن کو دور کرتی ہے، پٹھوں کو مضبوط بناتی ہے۔ پھیپھڑوں کے امراض میں یہ بہت ہی مفید ہے۔ گلے کی سوجن اور درد کو دور کر کے اس کو تر اور نرم کرتی ہے۔

مصر اور ترکی کے دیشوں میں ملٹھی کو پانی میں بھگو کر اور مل چھان کر اس کو شربت کی صورت میں پیتے ہیں۔ فرانس کے لوہے کے کئی کارخانوں میں مزدوروں کو ملٹھی کا پانی پلایا جاتا ہے، کیونکہ وہاں کے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اس سے گرمی سہنے کی طاقت بڑھتی ہے، ملٹھی کا استعمال جسم کی طاقت کو بڑھاتا ہے، اس کے کچھ نسخے ہم نیچے دے رہے ہیں۔ جو بہت ہی مفید ہیں۔

ملٹھی پوڈر
ملٹھی پوڈر

کھانسی

اس کی جڑوں کو چھیل کر موٹا موٹا کوٹ کر پانی میں ابال کر چھان لیں۔ اس میں دوگنی چینی ملا کر بطریق معروف شربت بنائیں۔ ایک سے دو چھوٹے چمچے خوراک دن میں دو سے تین بار دیں۔

دیگر

سفوف ملٹھی چھلی ہوئی پانچ تولہ، کاکڑاسنگی سفوف دو تولہ، نشاستہ دو تولہ، شکر تیغال دو تولہ، چینی بیس تولہ، ست پودینہ تین ماشہ، سب کو ملا کر گولیاں یا مشین سے ٹکیاں بنالیں، منہ میں رکھ  کر چوسیں، ہر قسم کی کھانسی میں مفید و موثر ہیں۔

جوشاندہ کھانسی

دار چینی چار ماشہ، بہی دانہ چار ماشہ، ملٹھی (چھلی ہوئی) ایک تولہ دو ماشہ، انجیر دس عدد، خشخاش تین ماشہ، مصری دو تولہ، آدھ سیر پانی میں جوشاندہ بنائیں۔ صاف کر کے پانچ تولہ دن میں تین بار استعمال کریں۔ ہر قسم کی کھانسی کے لیے مفید ہے۔

دیگر

پھول گاو زبان، گاو زبان، ملٹھی (چھلی ہوئی) ہر ایک پانچ ماشہ، عناب پانچ دانہ، کھانڈ دانہ دار دو تولہ، پانی میں جوش دے کر صبح و شام پلائیں، بلغم کی زیادتی کی حالت میں مفید ہے۔

بچوں کی کھانسی

سفوف کاکڑا سنگی، ملٹھی چھلی ہوئی کا آٹا برابر ملا کر بقدر ایک رتی سے دو رتی ماں کے دودھ میں حل کر کے دیں یا قدرے شہد میں ملا کر چٹانا بچوں کی کھانسی میں مفید ہے۔

جوشاندہ کھانسی

گاو زبان کے پتے پانچ گرام، ملٹھی چھلی ہوئی پانچ گرام، خطمی پانچ گرام، لسوڑیاں دس عدد، عناب پانچ عدد، ان سب کو 1000 گرام پانی میں جوش دیں، 50 گرام رہ جانے پر چھان لیں اور چینی ملا لیں۔ دن میں دو بار استعمال کرائیں۔

دوائے کھانسی

ملٹھی چھلی ہوئی بقدر ضرورت لیں اور ایک ٹکڑہ لے کر گرم راکھ میں دبائیں۔ یہاں تک کہ وہ نرم ہو جائے۔  دن میں دو سے تین بار چبائیں۔

دیگر

پوست خشخاش تین گرام، ملٹھی چھلی ہوئی چار گرام، دونوں کو 50 گرام پانی میں جوش دیں اور چھان لیں۔ دن میں دو بار لیں۔ گلے کی خراش اور کھانسی کے لیے مفید ہے۔

کھانسی کا کامیاب علاج

گودا املتاس ایک سیر، ملٹھی چھلی ہوئی ایک سیر، کاکڑا سنگی آدھ سیر، ریشہ خطمی آدھ سیر، سب ادویہ کو کوٹ کر رات بھر پانی میں جوش دیں، پھر کپڑے سے چھان کر اس میں دس سیر چینی ڈال کر بطریق معروف شربت تیار کر کے رکھیں۔ اب اس شربت میں ایک پاو ستو پلادی چورن، ایک پاو تالیس آدی چورن ملا دیں، اور سب طرح کی کھانسی میں دیں۔

انفلوائینزا بخار میں بھی اس کا استعمال مفید ہے، انفلوائینزا کے لیے اس شربت میں لونگ 5 تولہ، دار چینی 10 تولہ سفوف بنا کر شامل کریں، اور بقدر دو تالہ چٹائیں۔ دن میں تین یا چار بار کافی ہے۔ یہ نسخہ 1958 سے جب ہندوستان میں انفلوائینزا کلی وبا تھی تب سے لاکھوں مریضوں پر سرکاری فری آیورویدک ڈسپنسری میں آزمودہ تھی اور اس دن سے ہم اسے برابر استعمال کر رہے ہیں۔ شربت چاٹ لینے سے فوراً تسکین ہوتی ہے۔ شدت کھانسی میں اس کا فوری اثر مریض و معالج دونوں کے لیے مفید ہے۔

ملٹھی پھول
ملٹھی کا پھول

کھانسی وٹی

ملٹھی چھلی ہوئی کا آٹا پانچ تولہ، کاکڑا سنگی پانچ تولہ، کالی مرچ دو تولہ، مناسب گری املتاس دودھ میں گھلی ہوئی کی مدد سے گولیاں بقدر موٹے بیر کے بنائیں، ہر دو گھنٹے کے بعد ایک گولی منہ میں رکھ کر چوسیں، نگل نہ جائیں۔ دن میں چھ گولی تک چوس سکتے ہیں۔ تین چاروں میں آرام آجاتا ہے۔ ہر قسم کی کھانسی میں مفید ہے۔

دیگر

گاو زبان کے پتے تین ماشہ، ملٹھی چھلی ہوئی تین ماشہ، خطمی پانچ ماشہ، لسوڑیاں سات عدد، عناب پانچ عدد کو دوسو گرام پانی میں جوش دیں۔ آدھا رہنے پر چھان کر چینی ملا کر دن میں دوبار دیں۔

کھانسولین کے مقابلہ کا فارمولا

کھانسولین، کھانسول، کفسول، پیپس وغیرہ بیسیوں ادویات کھانسی کے لیے بک رہی ہیں۔ ان کے مقابلے کا فارمولا در ذیل ہے۔

چھلی ہوئی ملٹھی کا آٹا، طباشیر، کاکڑا سنگی، کھانڈ ہر ایک دوا ایک تولہ، پیپرمنٹ کرسٹل آدھا ماشہ، تمام ادویات کو کوٹ چھان کر  کپڑ چھان آپس میں ملا دیں اور کھرل میں ڈال کر پیپرمنٹ ملا کر گوند ملے پانی کے چھینٹے دیتے اور رگڑتے جائیں۔ اچھی طرح مل جانے پر مشین کی مدد سے چپٹی ٹکیاں تیار کریں، یہ گولیاں چوسنے سے خشک و تر کھانسی کو آرام آجاتا ہے۔

جوشاندہ کھانسی

بنفشہ پانچ تولہ، زوفہ، ملٹھی چھلی ہوئی، گاو زبان ہر ایک تین ماشہ، لسوڑیاں 9 دانے، رات کو بھگو کر گرم پانی میں تر رکھیں، صبح جوش دے کر چار ماشہ شہد ملا کر پلائیں۔

شربت اعجاز

بانسہ کے پتے 500 گرام، عناب 20 دانہ، لسوڑیں 60 دانہ، کتیرا، گوند کیکر ہر ایک 10 گرام، بہی دانہ 15 گرام، ملٹھی چھلی ہوئی، بیج خطمی، بیج خبازی، پھول نیلوفر، پھول بنفشہ ہر ایک 20 گرام چینی سفید ایک کلو۔

گوند کیکر و گوند کتیرا کے علاوہ باقی ادویات کو جوش دے کر صاف کریں اور بطریق معروف چینی ملا کر قوام تیار کریں، پھر گوند کیکر و کتیرا شامل کر دیں اور بقدر 20 گرام، عرق گاو زبان 125 گرام شامل کر کے استعمال کریں۔

فوائد: یہ شربت خشک کھانسی میں مفید ہے۔ اس کے علاوہ سل و دق میں خاص طور پر فائدہ دیتا ہے۔

]]>
مکو (عنب الثلعب) کے خواص، فوائد اور استعمال https://blog.kamilherbal.com/herbs-properties/%d9%85%da%a9%d9%88/ Wed, 23 Mar 2022 05:39:27 +0000 https://www.kamilherbal.com/?p=1121 مکو ( عنب الثلعب ) قدرتی طور پر افریقہ میں پایا جاتا ہے اور اسے نمونیا، دانتوں میں درد، پیٹ میں درد، سوزش، بخار اور ٹیومر کے علاج کے لیے خوراک کے ساتھ ساتھ  دواؤں کے پودے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

مختلف نام

اردو: عنب (الثعلب)

پنجابی و ہریانوی: کاچ ماچ

مرہٹی: کاموتی

گجراتی: پی کوڈو

بنگالی: کاک ماچھی

عربی: عنب الثعلب

ملیالم و تامل: کچھی چیٹو

سنسکرت: کاکا ماچھی۔ کنگھی وغیرہ

انگریزی میں گارڈن نائٹ شیڈ (Garden Night Shade)

لاطینی میں (Solanum Nigrum)

مقام پیدائش

مکو کی دو قسمیں ہیں۔ تمام ہندوستان، بنگلہ دیش، پاکستان اور سری لنکا میں پیدا ہوتی ہیں۔

شناخت

اس کا پودا زمین سے لگ بھگ ایک فٹ بلند ہوتا ہے۔ شاخیں بکثرت ہوتی ہیں۔ پھول سفید ہوتے ہیں اور ان کے جھڑ جانے کے بعد چھوٹے چھوٹے انگوروں کی شکل کے نخود کے برابر پھل لگتے ہیں۔ یہ پھل شروع میں ہرے ہوتے ہیں اوور پک کر زرد سرخی مائل ہو جاتے ہیں، اور ان میں کچھ مٹھاس آجاتی ہے۔ اس کی بعض قسمیں افیون کی طرح عضو کو سن اور بے حس کر دیتی ہیں۔

مکو دانہ
مکو دانہ

ککروندہ (کوکر چھڈی) کے خواص اور فوائد

کھٹکل بوٹی Indian Sorrel کے فوائد اور استعمال

گیندا Calendula Officinalis کے خواص

مزاج

مکو کا مزاج دوسرے درجہ میں سرد و خشک ہے، بعض اسے گرم و خشک مانتے ہیں۔ امراض چشم میں اس کا رس آنکھوں میں لگانے سے نظر تیز ہوتی ہے۔ اس کے پتوں کا رس آنکھ کے گوشہ کے ناسور میں بہت مفید ہے۔ اس کے پتوں کو چبانے سے منہ کے چھالے دور ہو جاتے ہیں، اس کے رس کے غرارہ کرنے سے ورم حلق، دانتوں اور گلے کے درد میں فائدہ ہوتا ہے۔

اس کا پختہ پھل کھانے سے استسقاء کو فائدہ ہوتا ہے اور پتوں کا پکا سالن روٹی کے ساتھ کھانا استسقاء زقی کو دور کرتا ہے۔ اس کے پتوں کا آگ پر مروق کیا ہوا پانی ورم جگر استسقاء اور یرقان میں مفید ہے۔

مقدار خوراک

پانچ ماشہ سے سات ماشہ تک، آب برگ، مکو سبز مروق چار سے پانچ تولہ تک دے سکتے ہیں۔

مکو کے سائنٹفک مرکبات

آب مکو

مکو کا تمام پودا معہ جڑ و پتے ٹکڑے ٹکڑے کر کے پانی کے ساتھ جوش دیں۔ جب اس کے اجزاء گل جائیں تو اتار کر خوب ملیں اور صاف کر لیں۔ اس صاف شدہ رس کو نرم آگ پر پکائیں۔ ایک قسم کا گاڑھا سا رب تیار ہوگا۔ بقدر ایک ماشہ دیں، تمام ورم اندرونی بیرونی میں مفید ہے۔ پیشاب کی نالی کی سوجن میں بھی مفید ہے۔ ورم جگر، یرقان، سوالقینہ اور استسقاء میں بہت مفید ہے۔

نمک مکو

مکو کے پودوں کو دھوپ میں خشک کر کے آگ سے جلالیں اور خاکستر کو پانی میں تر کر کے تین دن بعد اس کا زلال لیں اور کڑاہی میں پکا کر نمک بنائیں۔ یہ نمک بھوک لگاتا ہے، ہاضم ہے، امراض جگر و مثانہ کے لیے مفید ہے، پیشاب کھولتا ہے ،

مقدار خوراک: دو سے تین رتی تک۔

عرق مکو

مکو ایک پاؤ، شاہترہ آدھ پاؤ، بیج کاسنی پانچ تولہ ملا کر سب کا تین بوتل عرق نکالیں۔ یہ عرق مصفیٰ خون ہے جلدی حرارت کو از حد مفید ہے۔

مقدار خوراک: سات سے آٹھ تولہ تک دیں۔

شربت مکو

مکو پختہ کو سب اجزاء کے ساتھ کونڈے میں پیس کر اس کا خالص رس نکالیں اورنرم آگ پر جوش دیں۔ اس سے یہ عرق پھٹ جائے گا اور صاف پانی جدا ہو جائے گا۔ صاف پانی لے کر اس کے دو چند مصری کے ساتھ قوام تیار کریں۔ یہ شربت اندرونی و بیرونی ورموں کو تحلیل کرتا ہے، صفرا کو بذریعہ اسہال باہر نکالتا ہے۔ یرقان اور استسقاء میں مفید ہے۔ ورم جگر اور جگر بڑھ جانے میں ازحد مفید ہے،

مقدار خوراک: دو تولہ صبح اور دو تولہ شام ہمراہ مناسب عرق۔

مکو سے تیار ہونے والے کشتہ جات

کشتہ قلعی

قلعی ایک تولہ کڑچھی میں آگ پر پگھلا کر چند بار مکو کے رس میں پکائیں، پھر اس کو پگھلا کر برابر شدھ پارہ ملائیں، گرہ بن جاۓ گی، اس کو پیس کر باریک کریں۔ اب مکو کے خشک پتے آدھ  پاؤ پیس کر اس میں سے آدھا حصہ ایک ٹھیکرے پر بچھائیں اور اس پر قلعی کے سفوف کی ایک ایک چٹکی الگ الگ رکھتے جائیں، اس کے اوپر باقی نصف سفوف بطور لحاف رکھ کر اوپر دوسرا ٹھیکرا رکھیں۔ اور اس کو دس سیر اپلوں کے درمیان آگ لگائیں۔ سرد ہونے پر نکالیں۔ قلعی شگفتہ ہو گی پیس کر رکھ لیں یہ کشتہ  امراض معدہ و جگر کے لیے مفید ہے، کثرت احتلام اور جریان کے مفید ہے۔

مقدار خوراک: ایک رتی صبح اور ایک رتی شام مکھنمیں ملا کر استعمال کریں۔

کشتہ عقیق

عقیق کا نگینہ بقدر ایک تولہ لے کر اس پر افیون تین ماشہ، آب برگ مکو سے سحق کر کے لیپ کریں۔ جب خشک ہو جاۓ تو اس کو مکو کے ایک پاؤ نغدہ کے درمیان گل حکمت کر کے پندرہ سیر اپلوں کی آگ دیں، پھر اس کو نکال کر کھرل میں باریک پیس کر اور مکو کے مروق عرق سے چار پہر کھرل کر کے اس کی ٹکیاں بنا دیں۔ جب خشک ہو جاۓ تو مٹی کے بوتہ میں رکھ کر دس پندرہ سیر اپلوں کی آگ دیں۔

تین چار مرتبہ یہ عمل کرنے سے عقیق نہایت عمدہ و نفیس کشتہ ہو جاتا ہے۔ اسے عرق بید مشک دس تولہ، عرق گلاب دس تولہ سے کھرل کر کے خشک ہونے کے بعد شیشی میں محفوظ رکھیں۔

فوائد: یہ کشتہ دل و دماغ کو طاقت دیتا ہے۔ پھیپھڑے سے خون آنے اور بواسیر خونی کے لیے مفید ہے۔ امراض جگر اور امراض معدہ میں مفید ہے۔

مقدار خوراک: ایک رتی مکھن یا بالائی میں دیں۔

]]>
گل منڈی بوٹی کے خواص، فوائد اور استعمال https://blog.kamilherbal.com/herbs-properties/%da%af%d9%84-%d9%85%d9%86%da%88%db%8c-%d8%a8%d9%88%d9%b9%db%8c/ Thu, 10 Mar 2022 18:44:33 +0000 https://www.kamilherbal.com/?p=1115 گل منڈی بوٹی کو مصفیٰ خون کی وجہ سے جلدی امراض مثلاً پھوڑے پھنسیاں تروخشک خارشکے، آتشک و جذام میں تنہا یا دیگر ادویہ کے ہمراہ شیرہ نکال کر یا نقوح بناکر یاسفوف استعمال کرتے ہیں جوکہ نافع امراض سودایہ ہے۔

مختلف نام

مشہور نام: منڈی

ہندی: منڈی

سنسکرت: منڈی ٹیکا، بوڑترم، سپھلا لیکا

بنگالی: منڈری، منڈی

مرہٹی: تھل کڑی

گجراتی: منڈی، گورکھ منڈی

فارسی: گل منڈی

عربی: کماذریونا

لاطینی: سفر تھیلین انڈیکس (Sphaeranthus Indicus)

شناخت

زمین پر پھیلی ہوئی دو قسم کی ہوتی ہے۔ چھوٹی اور بڑی۔ چھوٹی کے پتے پودینہ کے پتوں کی طرح مگر ان سے قدرے شاخیں باریک، پھول بنفشی، رنگ فالسہ کی طرح مگر قدرے لمبے، ان میں گلاب کی سی خوشبو ہوتی ہے۔ ذائقہ تلخ اور بدمزہ سا ہوتا ہے۔ بڑی کے پتے قدرے چھوٹے اور گول کنگرہ دار پھول ہوتے ہیں۔

چھوٹی قسم کے پھولوں سے بڑے اور اس کے تمام اجزاء میں سے کچے آم کی خوشبو آتی ہے۔ چھوٹی قسم بہتر خیال کی جاتی ہے۔

گل منڈی بوٹی کا پودا
گل منڈی بوٹی کا پودا

ککروندہ (کوکر چھڈی) کے خواص اور فوائد

کنگھی بوٹی کے خواص، فوائد اور استعمال

لاجونتی Humble Plant کے خواص

مزاج

گل منڈی بوٹی کا مزاج گرم و خشک درجہ دوم میں ہے۔

مقدار خوراک

خوراک دو سے چھ ماشہ اور عرق پانچ تولہ تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔

افعال

مصفیٰ خون ،مقوی قلب و حواس ،نافع امراض سودایہ۔

گل منڈی بوٹی کے فوائد

خنازیر، پیٹ کے کیڑے، جوڑوں کا درد، بواسیر۔ آنکھوں کی کمزوری کے لیے مفید ہے۔

خنازیر

بڑے آدمی کے لیے نو ماشہ سے ایک گولہ منڈی رات کو پندرہ تولہ پانی میں تر کر کے صبح مل چھان کر ایک مہینہ متواتر پلانے سے خنازیر کا آرام آجاتا ہے۔

کمزوری

گل منڈی بوٹی کو جب کہ اس میں پھل نہ آۓ ہوں پیس کر دگنے شہد اور مناسب گھی گاۓ میں ملا کر چھ ماشہ روزانہ استعمال کرنا کمزوری کو دور کرتا ہے۔

آشوب چشم

جب پودے میں پھل نہ آیا ہو اگر اس کا پھول لے کر بغیر پانی کے نگل لیں تو ایک سال آشوب چشم نہیں ہوتا اور دو نگل لیں تو دو سال آنکھیں نہیں دکھتی ہیں۔

شربت منڈی

ایک پاؤ گل منڈی بوٹی کو ڈیڑھ سیر پانی میں تر کر کے جوش دیں۔ جب پانی دو حصہ جل جاۓ اور تیسرا حصہ باقی رہے تو صاف کر کے چینی تین پاؤ ڈال کر شربت تیار کریں۔ خوراک دو سے تین تولہ پینا دافع رطوبت دماغ، مقوی دماغ اور معدہ کی گیس کے لیے مفید ہے۔

شربت منڈی مرکب

گل منڈی بوٹی، سرپھوکہ، ہرڑ کالی، شاہترہ، چرائتہ ہر ایک سات تولہ، عناب ساٹھ دانہ۔ سب ادویہ کو چوبیس گھنٹے پانی میں بھگو کر رکھیں اور اچھی طرح جوش دے کر تین پاؤ چینی کا اضافہ کر کے شربت تیار کرلیں۔ خوراک پانچ تولہ شربت بارہ تولہ عرق شاہترہ کے ہمراہ روزانہ صبح اور شام دو ہفتہ تک پلائیں۔ اس کے بعد جلاب دیں۔ سودا کا منفج ہے اور خون کو صاف کرتا ہے۔

بواسیری مسے

منڈی کے تمام اجزاء کی دھونی بواسیری مسوں کے لیے مفید ہے اور مسوں کو مرجھا کر گرا دیتی ہے۔

اطریفل منڈی

گل منڈی بوٹی سات تولہ، چھلکا ہرڑ زرد، چھلکا ہرڑ کابلی، چھلکا بہیڑہ، آملہ خشک شدھ، شاہترہ کے پتے، ملٹھی چھلی ہوئی ہر ایک ایک تولہ، کوٹ چھان کر ہرڑ ہاۓ کو گھی گاۓ خالص سے چرب کر کے تین گنا چینی کا قوام کر کے ملائیں اور اطریفل تیار کر کے ایک (آنکھوں کے جملہ امراض خصوصاً ضعف بصرہ، دماغی کمزوری کی وجہ سے ضعف بصر کی شکایت ہو تو خمیرہ بادام اور اطریفل منڈی رات سوتے وقت استعمال کریں۔ آنکھوں کی بینائی کے لیے مجرب ہے۔ (حکیم فرخ نعیم)  دو تولہ ہمراہ پانی یا دودھ سوتے وقت دیں۔

فوائد: آنکھوں کے امراض اور سرخی آنکھ کے لیے مفید ہے۔

کشتہ جات میں منڈی کا استعمال

کشتہ سونا

ایک کوزہ گلی (جس میں تین چھٹانک تازہ منڈی بوٹی کا نغدہ سما سکے) لے کر آدھا نیچے بچھا کر اس پر سونے کا پترہ شدھ رکھ کر بقایا نغدہ سے اس کو ڈھانپ دیں اور مضبوط گل حکمت کر کے دس سیر اپلوں کی آگ دیں۔ سرد ہونے پر پانچ بار یہی عمل کریں۔ کشتہ سونا تیار ہو گا۔ آدھے سے ایک چاول مکھن یا خمیرہ گاؤ زبان عنبری میں کھلائیں۔

فوائد: کمزوری دماغ، اعضائے رئیسہ اور شادی سے پہلے و شادی کے بعد کمزوری کے لیے مفید ہے۔

کشتہ سنگ جراح

سنگ جراح کو باریک پیس کر رس گھیکوار کے ہمراہ کھرل کر کے خشک کریں اور سمپٹ کر کے آگ دیں۔ پھر رس نیم میں کھرل کر کے آگ دیں۔ اس کے بعد تین بار آگ منڈی کے رس میں کھرل کر کے دیں، کشتہ تیار ہے۔ خوراک آدھی رتی سے ایک رتی تک استعمال کریں۔ بخاروں کو دور کرنے کے لیے اور خونی بواسیر کو مفید ہے۔

عرق گل منڈی

خون کو صاف کرتا ہے۔ چہرے کے رنگ کو نکھارتا ہے۔ اس کے استعمال سے مزمن خارش دورہوجاتی ہے۔ الرجی یعنی حساسیت کو مفید اور بینائی کو طاقت دیتا ہے۔
مقدارخوراک: ایک کپ نہار منہ صبح

(جڑی بوٹیوں کا انسائیکلو پیڈیا)

]]>
لاجونتی Humble Plant کے خواص https://blog.kamilherbal.com/herbs-properties/%d9%84%d8%a7%d8%ac%d9%88%d9%86%d8%aa%db%8c/ Fri, 25 Feb 2022 05:33:37 +0000 https://www.kamilherbal.com/?p=1107 لاجونتی (چھوئی موئی) کو امراض فساد خون اور امراض صفراء میں استعمال کرتے ہیں۔ ناسور اور پرانے زخموں پر اس کا پانی ٹپکایا جاتا ہے۔

مختلف نام

مشہور نام: لاجونتی

ہندی: لجونتی، لاجوتی، لجاط، چھوئی موئی، شرمیلی بوٹی

بنگالی: لاجک، لجاوتی

مراٹھی: لاجالو، لاجارنی، سنگوانی، سنکھوانی

سنسکرت: لاجونتی، لجالو

گجراتی: شامنی

عربی: شجر تہ الحیا

لاطینی: مائلو ساسین، سٹائیواپڈکا۔

انگریزی میں اسے ہمبل پلانٹ (Humble Plant) کہتے ہیں۔

شناخت

انسان ضعیف البنیان قدرت حق کو دیکھ کر حیران اور ششدر رہ جاتا ہے کہ جب ایک نبات کو مرد ہاتھ لگاتا ہے تو وہ مرجھانے لگتی ہے اور جونہی اس کے پودے سے ہاتھ کو دور کیا جاتا ہے تو پھر اپنی ترو تازگی پر آجاتی ہے۔ چنانچہ اسی بناء پر اس کو چھوئی موئی، لجا اور شرم بوٹی کہتے ہیں۔ یعنی مرد لگانے سے شرمانے والی بوٹی اور یہی اس کی پہچان ہے۔

لاجونتی کا پھول
لاجونتی کا پھول

اسی نظریے کے پیش نظر کہ اس بوٹی میں دیکھنے اور سننے کی طاقت موجود ہے۔ میں اکثر حاملہ عورتوں کو پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی کی شناخت کے لیے لاجونتی بوٹی کو چھونے کی ہدایت کرتا ہوں اگر حاملہ کے ہاتھ لگانے سے بوٹی مرجائے تو اس کے پیٹ سے ہونے والا بچہ لڑکا ہوگا۔ اگر نہ مرجھائے تو لڑکی ہو گی اور یہ تجربہ کامیاب رہا ہے۔ میرے نظریہ کے مطابق لاجونتی سب سے زیادہ افضل ہے۔ جو مرد کے پاؤں یا لڑکے کے حمل والی عورت کے پاؤں کی آہٹ سے سکڑ جائے اور ہاتھ لگانے کی نوبت بھی نہ آئے۔ (ڈاکٹر و حکیم ہری چند ملتانی)

لاجونتی کے بیج
لاجونتی کے بیج

اس کا پودا لگ بھگ ایک گز لمبا ہوتا ہے۔ شاخیں باریک اور پتے کیکر کے پتوں کی طرح ہوتے ہیں۔ جو مرد کے چھونے پر فوراً مرجھا جاتے ہیں اور ہاتھ ہٹا لینے سے پھر از خود ہرے ہو جاتے ہیں۔ اس کے پھول گلابی رنگ کے نہایت خوش نما ہوتے ہیں۔

عام طور پر خوبصورتی کے لیے امیر لوگ اپنے بنگلوں کے سامنے گملوں میں لگاتے ہیں، لگ بھگ ہر موسم میں مل جاتا ہے۔ یہ بوٹی بھارت کے علاقہ بہار کے پہاڑی علاقوں میں بکثرت پیدا ہوتی ہے، اسکے بیج زرد، سیاہی مائل بقدر دانہ مونگ کے ہوتے ہیں، پنساریوں کے ہاں جو بیج چھوٹے چھوٹے لاجونتی کے ملتے ہیں وہ معمول قسم کی لاجونتی کے ہوتے ہیں۔

کھٹکل بوٹی Indian Sorrel کے فوائد اور استعمال

کنگھی بوٹی کے خواص، فوائد اور استعمال

گیندا Calendula Officinalis کے خواص

مزاج

لاجونتی کا مزاج دوسرے درجہ میں سرد تر ہے، بعض نےسرد خشک بھی لکھا ہے، مگر خشکی اس میں بہت کم ہے۔

مقدارخوراک

پانچ سے سات گرام یا ماشے۔

لاجونتی کے فائدے

محلل، کاسر ریاح، مصفیٰ خون اور امراض ایام کےلیے مفید ہے۔ ناسور، پرانے زخموں، بواسیر کےلیے مفید ہے۔ مفصل فوائد درج ذیل ہیں:

جریان

مغز بیج تمر ہندی کلاں، بیج لاجونتی، تال مکھانہ ایک ایک تولہ، سب کو باریک کوٹ کر شیر برگد (بوہڑ) میں تر کر کے سایہ میں خشک کریں اور گولیاں بقدر نخود بنالیں۔ صبح اور شام دو دو گولیاں ہمراہ دودھ گائے دیں۔

کمزوری

بیج لاجونتی بڑھیا تین ماشہ، مصری یا چینی چھ ماشہ، یہ ایک خوراک ہے۔ متواتر دو ہفتہ صبح و شام ہمراہ دودھ گائے نیم گرم استعمال کریں۔ انشاء اللہ قدرتی فائدہ ہو گا۔ اگر کوئی پہلے خرابی ہو تو دور کر لیں۔ کوڑیوں کے نسخہ کی چیز اشرفیوں کے نسخہ کے برابر کام دے گی۔

جریان

ست سلاجیت اصلی، کشتہ مرجان، کشتہ قلعی ہر ایک دو تولہ، موصلی سفید، مصری، ورق چاندی، تال مکھانہ، گوند ڈھاک، بیج لاجونتی ہر ایک ایک تولہ، کوزہ مصری تین تولہ، باریک کر کے سفوف بنائیں صبح و شام ڈیڑھ ماشہ ہمراہ دودھ گائے استعمال کریں، مفید ہے۔

سیلان

کشتہ مرجان، کشتہ صدف ہر ایک ایک تولہ، لاجونتی کے بیج دو تولہ، سب کو کوٹ کر سفوف بنائیں اور دو ماشہ صبح اور دو ماشہ شام ہمراہ دودھ گائے دیں۔

پستانوں کا ڈھیلا پن

لاجونتی بوٹی، اسگندھ ناگوری ہموزن برابر پیس کر پستتانوں پر لیپ کریں۔ پستانوں کا استرخا جاتا رہے گا۔ ڈھیلا پن سختی میں بدل جائے گا۔

زہریلے زخم

لاجونتی کے پتے ڈیڑھ تولہ، مرچ سیاہ ڈیڑھ ماشہ میں پیس کر چار چار رتی کی گولیاں بنائیں صبح و شام ایک ایک گولی ہمراہ پانی دیں۔ زہریلے زخموں کے لیے مفید ہے۔

لاجونتی بوٹی سے طاعون کا علاج

چونکہ لاجونتی زبردست مصفیٰ خون اور ٹھندی تاثیر رکھتی ہے اور زہروں کا تریاق ہے۔ اس لیے مرض طاعون کا نہایت شافی علاج ہے۔ طاعون میں جسم میں آگ لگ جاتی ہے۔ صفرا وغیرہ بڑھ جاتا ہے۔ خون میں زہر پھیل جاتا ہے۔ بخار کی تیزی 107 درجہ تک بلکہ اس سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ ان حالات میں لاجونتی بوٹی سے بڑھ کر کوئی تسلی بخش علاج نہیں۔ اس کا جوشاندہ ہر گھنٹہ بعد پلانا اس موذی مرض سے نجات دلاتا ہے۔ یہ بہت ہی مفید نسخہ ہے۔ گلٹی پر حرمل کا نیم گرم نغدہ باندھیں اور ٹکور کریں۔ وقت ضرورت کے لیے معالجین کو لاجونتی کے پنچانگ کا نمک حسب معروف تیار کر کے رکھنا چاہیے اور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

لاجونتی کا کشتہ جات میں استعمال

کشتہ ہڑتال ورقی

ایک کوزہ گلی لے کر اس میں نمک لاہوری پانچ تولہ باریک کر کے بچھائیں۔ اس پر لاجونتی کا تولہ نغدہ رکھ کر اوپر نمک محفوظ مقام پر بیس سیر اپلوں کی آگ دیں۔ اس طرح ایک دو بار آگ دینے سے سفید کشتہ تیار ہوگا۔ خوراک چوتھائی چاول سے آدھے چاول تک مکھن میں دیں، زہریلے زخموں اور جذام کے لیے مفید ہے۔ کمزوری کو دور کرتا ہے۔

پارہ قائم النار

اس کا تجربہ میں نے نہیں کیا، لیکن اہل صنعت و کیمیا گر لاجونتی سے سیماب (پارہ) کو قائم کر لیتے ہیں۔ اس سلسلہ میں دو تولہ پارہ شدھ کو لاجونتی بوٹی کے رس میں سات دن کھرل کریں بعد نرم آگ پر بطریق معروف تشویہ دیتے جائیں اور تازہ پانی ڈالتے جائیں۔ چند بار کے عمل سے پارہ قائم النار ہو جائے گا۔

کشتہ چاندی

لاجونتی بوٹی کے پتے تین ماشہ، روپیہ خالص چاندی شدھ کے نیچے اور تین ماشہ اوپر دے کر اردگرد ایک سفید کپڑا لپیٹ کر دو سیر اپلوں کی آگ دیں۔ سرد ہونے پر نکال لیں۔ روپیہ کشتہ سالم الحروف برآمد ہوگا۔ ایک چاول مکھن میں دیں۔ کمزوری کے لیے بے حد مفید ہے اور اعضائے رئیسہ کو طاقت دیتا ہے۔

بگڑی اولاد کو سنوارنے کا عمل

سائنس کی موجودہ زمانے کی ترقی میں، میں خود جادو ٹونے اور تعویذ میں یقین نہیں رکھتا، پھر بھی نرالا جوگی کے ایک پریمی نے اپنا ایک آزمودہ عمل بھیجا ہے جو درج ذیل ہے۔ (ڈاکٹر و حکیم ہری چند ملتانی)

نوچندی اتوار سے ایک دن پہلے شام کو جنگل میں جا کر لاجونتی بوٹی کو اپنے گھر لے جانے کی دعوت دے آئیں۔ دوسرے دن سورج نکلنے سے پہلے اس بوٹی کو جڑ سمیت اکھاڑ کر گھر لے آئیے، لیکن اس بوٹی پر بگڑی اولاد کی نگاہ یا سایہ نہ پڑے۔ کسی محفوظ جگہ پر بیٹھ کر اس کی جڑ کو پودے سے الگ کر کے کسی تانبے یا چاندی کے پترے میں لپیٹ کر لڑکی یا لڑکے کو مطلوبہ کے گلے میں لٹکائیں۔ چند ہی دنوں میں آپ دیکھیں گے کہ اس کے اندر کس قدر جذبہ، شرم و حیاء اور بزرگوں کی قدر و عزت بھر جاتی ہے۔

آپ کو اس غیر متوقع تبدیلی سے یہ بھی گمان تک نہ ہو گا کہ اس حیرت انگیر لاجونتی (شرمیلی) بوٹی کی تاثیر نے آپ کی بگڑی اولاد کو شرمیلا بنا دیا ہے اور آپ کی الجھن کو سلجھن میں بدل کر قدرت کی ایک زندہ منہ بولی مثال قائم کی ہے۔ یہ آیورویدک شاستر کی دریا دلی کانمونہ ہے۔

(جڑی بوٹیوں کا انسائیکلو پیڈیا)

]]>
گیندا Calendula Officinalis کے خواص https://blog.kamilherbal.com/herbs-properties/%da%af%db%8c%d9%86%d8%af%d8%a7/ Thu, 24 Feb 2022 17:00:48 +0000 https://www.kamilherbal.com/?p=1100  گیندا پاکستان و ہندوستان میں بکثرت اور مختلف اقسام کے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ گھروں اور باغیچوں کے اندر خوبصورتی کیلئے لگاتے ہیں۔

مختلف نام

مشہور نام: گیندا

فارسی: صدر برگ

ہندی: گیندس

تیلگو: بنتی بول

انگریزی: کیلن ڈیولا (Calendula Officinalis)

شناخت

اس بوٹی کا تنا سیدھا شاخ دار اور کھردرا ہوتا ہے۔ جس کی لمبائی ایک فٹ یا اس سے زیادہ ہوتی ہے، پتے بیضوی، موٹے، نارنجی اور شوخ پھول لگتا ہے۔ جو چمک دمک میں سورج کی شعاعوں سے مشابہ ہوتا ہے۔ چونکہ پھول میں بہت سی پنکھڑیاں ہوتی ہیں۔ اس لیے اسے صدر برگ کے نام سے بھی پکارتے ہیں۔

گیندے کا پھول

مزاج

گرم و خشک درجہ دوم۔

نفع خاص

مخرج سنگ مثانہ، محلل۔

مضر

آشوب و کلہ پیدا کرتا ہے۔

مصلح

بادرنجیویہ، ترشیاں۔

بدل

گل معصفری۔

مقدارخوراک

تازہ پھول ایک تولہ، تازہ پتوں کا پانی ایک تولہ۔

گیندے کا پودا
گیندے کا پودا

کنگھی بوٹی کے خواص، فوائد اور استعمال

شولنگی کے خواص، فوائد اور استعمال

ککروندہ (کوکر چھڈی) کے خواص اور فوائد

فوائد

گیندا مندرجہ ذیل امراض میں خاص طور پر مفید ہے۔

تشنج

گیندا کے پتوں کا رس آدھا سے ایک تولہ پینے سے تشنج رفع ہو جاتا ہے۔ دماغی ہیجان کو تسکین ملتی ہے۔ اس لیے یہ مرگی اور پاگل پن کے لیے بھی مفید ہے۔

درد کان

اس کا رس ایک دو قطرے نیم گرم کان میں ڈالنے سے کان درد دور ہو جاتا ہے۔

خنازیر

گیندا کے پتوں کو پیس کر خنازیر کی گلٹیوں پر لیپ کرنا اور اس کا بیج پیس کر سفوف بنا کر چار ماشہ سے چھ ماشہ تک استعمال کرنا مفید ہے۔

پائلز پلستر

گیندا کے پھول سایہ میں خشک شدہ، رسونت شدھ، مغز بیج نیم، مغز بیج بکائن، چھلکا نیم، بیج مولی ہر ایک بیس تولہ علیحدہ علیحدہ پیس لیں اور چار سیر دودھ گائے میں پکائیں۔ جب قوام درست ہو جائے تو گولیاں بقدر نخود بنائیں، بواسیری کے واسطے نہایت مفید ہیں، چالیس روز کے استعمال سے مرض دور ہو جاتا ہے۔ خوراک سے دو چار گولی ہمراہ پانی دیں اور پانی سے پیس کر مسوں پر ضماد کریں۔

داد

اس کے پتوں کا رس داد پر لگانا داد کے لیے مفید ہے۔

سفوف ہاضم

گیندا کے خشک پتے پانچ تولہ، مرچ کالی، پپلی، سونٹھ ہر ایک ایک تولہ سفوف بنائیں، خوراک چار سے چھ ماشہ تک ہمراہ پانی دیں۔ تقویت معدہ اور ہضم طعام کے لیے بہت مفید ہے۔

نمک گیندا

گیندا کو معہ تمام اجزاء کے سایہ میں خشک کریں پھر اس کو جلا کر خاکستر بنائیں۔ خاکستر کو تین دن پانی میں تر رکھیں۔ روزانہ ایک دو بار ہلا دیا کریں۔ تیسرے دن صاف پانی نتھار لے کر پکالیں۔ نمک تیار ہوگا۔

فوائد: یہ نمک ہاضم طعام، دافع دمہ اور کھانسی ہے۔ خوراک دو رتی سے تین رتی تک بعد رفع حاجت بواسیر کے مسوں پر لگانے سے ان کو خشک کرتا ہے۔

شربت گیندا

گیندا کے پتوں کا رس نکال کر آگ پر پھاڑ لیں، اور صاف شدہ پانی سے دو چند مصری ملا کر قوام تیار کریں۔ شربت تیار ہو گا۔ یہ شربت مفرح و مقوی دل ہے۔ پیشاب و ایام کو جاری کرتا ہے۔ معدہ کو طاقت دیتا ہے۔ خوراک ایک سے دو تولہ تک استعمال کریں۔

نوٹ: گیندا مردمی طاقت کو زائل کرتا ہے اس کے ڈیڑھ ماشہ بیجوں کو کوٹ کر کھانا قوت مردی کو زائل کر دیتا ہے۔

کشتہ ہڑتال گئودنتی

ہڑتال گئودنتی دو تولہ لے کر گیندے کے پتوں کے ایک پاؤ نغدہ میں رکھ کر گل حکمت کریں اور جب گل حکمت خشک ہو جائے تو پندرہ سیر اپلوں کی آگ دیں۔ شگفتہ ہو گا اسے پیس کر محفوظ کر لیں۔

فوائد: کشتہ مصفیٰ خون ہے۔ جوش کو بٹھاتا ہے۔ خنازیر اور سر خبادہ کے لیے مفید ہے۔

گیندا کی پتیوں سے ہر قسم کے زخموں کا علاج

عام نارنجی گیندے کی پتیاں لے لیجیے۔ اچھے موسم کی صبح کو جب پھول پورے کھلے ہوں اور شبنم سورج کی تمازت سے خشک ہو چکی ہو ان پھولوں کو جمع کرنا چاہیے۔ گیندے کی پتیوں کو جلدی سے علیحدہ علیحدہ کر کے ایک کاغذ پر بچھائیں۔ پتیاں اس طرح بچھائیں کہ ایک دوسرے پر چڑھی ہوئی نہ ہوں تا کہ جلد سوکھ جائیں۔ جب پھول سوکھ جائیں تو ان کو ایک کانچ کے صاف مرتبان میں رکھ لیں۔ مرتبان کو اچھی طرح بند کر دیجیے تا کہ گرد وغبار اندر نہ جائے، پھر اسکا جوشاندہ تیار کیجئے۔ پانی اور ان پتوں میں ایک پائنیٹ کھولتے پانی اور ایک اونس کی نسبت ہونی چاہیے۔

جلدی پھوڑے، پھنسنیوں اور جلد مندمل ہونے والے زخموں اور گوشت کے کٹ جانے کی صورت میں بیرونی طور پر لگائیے۔ اگر بھڑ یا مکھی کے کاٹنے پر ان پتیوں کا ملا جائے تو ورم اور تکلیف بہت جلد رفع ہو جاتی ہے۔ اگر گیندے کے چوشاندے میں بوتل کے کارک کو گیلا کر کے بھڑ کے کاٹے مقام پر ملا جائے تو ورم اتر جاتا ہے، اور درد کی تکلیف بھی رفع ہو جاتی ہے۔ مندرجہ بالا آزمودہ تجربات ہیں۔

(جڑی بوٹیوں کا انسائیکلو پیڈیا، تاج المفردات)

]]>
کھٹکل بوٹی Indian Sorrel کے فوائد اور استعمال https://blog.kamilherbal.com/herbs-properties/%da%a9%da%be%d9%b9%da%a9%d9%84-%d8%a8%d9%88%d9%b9%db%8c/ Wed, 23 Feb 2022 06:29:27 +0000 https://www.kamilherbal.com/?p=1094 اگر آپ ہاضمہ کے مسائل کے علاج کے لیے جڑی بوٹیوں اور متبادل طریقہ کی تلاش کر رہے ہیں، تو اس کا قطعی جواب ہے کھٹکل بوٹی، ایک سبز پتوں والی سبزی جو نہ صرف ہاضمے کی خرابیوں کو روکتی ہے بلکہ جسم کو بھرپور غذائیت سے بھی مالا مال کرتی ہے۔

مختلف نام

مشہور نام: کھٹی میٹھی، کھٹا میٹھا

ہندی: چوکھا، کھٹکل

پنجابی: کھٹکل بوٹی، امبی

سندھی: ٹپتی

فارسی: ترشک

انگریزی میں اسے Indian Sorrel کہتے ہیں۔

شناخت

یہ خودرو بوٹی ہے۔ جو اکثر نمناک جگہوں اور باغوں میں پیدا ہوتی ہے۔ اکثر زمین پر بچھی ہوئی ہوتی ہے۔ اس بوٹی کے پتے میتھی کی طرح اس سے قدرے چھوٹے اور نازک ہوتے ہیں۔ اس کے تین تین پتے اکٹھے ہوتے ہیں۔ اگر ان کو ملایا جائے تو چھوٹی کٹوری سی بن جاتی ہے۔ اس وجہ سے اس کو تپتی (تین پتوں والی) بھی کہتے ہیں۔

اس کے پتوں کا ذائقہ کھٹا اور خوش گوار معلوم ہوتا ہے۔ اس کے پھول چھوٹے چھوٹے زرد رنگ کے ہوتے ہیں۔ پھول گرنے کے بعد پھلی لگتی ہے۔ پکنے کے پر اس میں سے چھوٹے چھوٹے بیج گر جاتے ہیں۔ اکثر اس کا ساگ پکا کر بھی کھایا جاتا ہے۔ جو گرم امراض کے لیے مفید ہے اور ہیضہ وبائی میں بھی مفید ہے۔

کھٹکل بوٹی کا پتا
کھٹکل بوٹی کا پتا

ککروندہ (کوکر چھڈی) کے خواص اور فوائد

کنگھی بوٹی کے خواص، فوائد اور استعمال

سونف Fennel Seeds کے خواص، فوائد اور استعمال

مزاج

کھٹکل کا مزاج سرد تر درجہ اول میں ہے۔

استعمال

اس کا ساگ پکا کر کھلایا جاتا ہے۔ گرم مزاجوں اور گرم امراض میں مفید ہے۔ حرارت معدہ اور جگر کو طاقت بخشتا ہے۔ یرقان میں اس کا استعمال نہایت مفید ہے۔ مثانہ پر ضماد کرنے سے پیشاب میں تحریک پیدا کرتی ہے۔ تپتی اور رواسن کے پتوں کا پانی ہم وزن ملا کر درد عصابہ کو زائل کرنے کے لئے ناک میں قطور کرتے ہیں۔ ایک تولہ کو چند عدد مرچ سیاہ کے ہمراہ پاوَ سیر پانی میں پیس چھان کر پلانا ہیضہ وبائی کے لئے مفید بیان کیا جاتا ہے۔

نفع خاص

دافع یرقان ہے۔

مضر

نقرس اور پھیپھڑوں کےلئے مضر ہے۔

مصلح

گرم  مصالحہ۔

بدل

خرفے کا ساگ یا کھٹی پالک۔

کیمیاوی اجزاء

اس بوٹی میں ایسڈ آگزلیٹ آف پوٹاشیم پایا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کا ذائقہ ترش ہے۔ بچھو کاٹنے کا تریاق ہے۔ مرض نقرس میں اس کا استعمال ممنوع ہے۔

مقدار خوراک

7 ماشے سے 1 تولہ تک

کھٹکل کے فوائد

اس کے چند فوائد درج ذیل ہیں۔

منہ کے چھالے

جب گرمی کے سبب سے منہ کے چھالے ہوں تو اس کے رس سے کلیاں کرنے سے آرام آ جاتا ہے۔

نمک کھٹکل

کھٹکل کے سالم پودے کو جڑ سے اکھاڑ کر سایہ میں خشک کر کے اس کو جلا کر خاکستر کریں۔ اس خاکستر کو پانی میں بھگو کر تین دن کے بعد اس کا نتھار لیں، اور کڑاہی میں پکا کر بدستور نمک بنائیں۔ مقدار خوراک ایک سے دو رتی ہے۔ یہ نمک ہاضم طعام، دافع تشنگی اور سوزش کے لیے مفید ہے۔

کھٹکل بوٹی سے نظر کا کامیاب علاج

ماہنامہ نرالہ جوگی پانی پت کے ایک پریمی نے اپنا ذاتی تجربہ لکھا ہے کہ ان کے ایک دوست نے آنکھوں پر کاسٹک لگوایا لیکن ڈاکٹر کو آنکھوں پر پانی ڈالنا یاد نہ رہا۔ جس کے نتیجہ میں باوجود ہزار کوششوں کے آنکھیں سفید ہو گئیں اور نظر آنا بالکل بند ہو گیا۔ آنکھوں کی بیماریوں کے تمام ڈاکٹروں کا متفقہ فیصلہ تھا کہ زمین کا تختہ پلٹ جانا ممکن ہے، لیکن آنکھوں میں روشنی آنا ناممکن ہے۔ ان حالات میں اچانک ایک کہنہ موق حکیم سے ملاقات ہوئی، جس کے نسخے نے آرام پہنچایا۔

کھٹکل بوٹی کا تازہ رس چھ بوند، ذرا سا شیشہ نمک اور معمولی قلمی شورہ کے ساتھ گھس کر دن میں تین بار آنکھوں میں ایک دو قطرے ٹپکائیں۔ پہلے ہفتہ میں معمولی اور دوسرے ہفتے میں اخبار کے موٹے حروف اور تیسرے ہفتہ میں مریض خود بخود چلنے پھرنے لگا اور اس طرح مریض کو دوبارہ روشنی مل گئی۔ (ہری چند ملتانی پانی پت)۔

کھٹکل بوٹی سے تیار ہونے والے کشتہ جات

کشتہ چاندی

برادہ چاندی، پارہ ہر ایک ایک تولہ کو ایک پاؤ کھٹکل کے رس کے ساتھ کھرل کریں، پھر ٹکیہ بنائیں اور گل حکمت کر کے پانچ سیر اپلوں کی آگ دیں۔ اس طرح سات بار عمل کریں، ہر دفعہ پارہ ملا کر ایک پاؤ کھٹکل کے رس میں کھرل کر کے پانچ سیر اپلوں کی آگ دیں۔ بہت عمدہ کشتہ تیار ہو گا۔ مقوی اعضائے رئیسہ، مولد خون و شادی سے پہلے و بعد کی کمزوری کے لیے مفید ہے، خوراک آدھی رتی بالائی میں ملا کر سات دن تک دیں۔

کشتہ ابرک سفید

ابرک سفید کو حل کر کے کھٹکل کے رس میں کھرل کریں، اور ٹکیاں بنا کر دس سیر اپلوں کی آگ دیں۔ یہ عمل بار بار کرتے رہیں، حتیٰ کہ ابرک کی چمک جاتی رہے۔ یہ کشتہ گرم مزاجوں کے لیے مفید ہے۔ ضعف جگر ورم بخاروں میں مفید ہے۔ مقدار خوراک ایک رتی ہے۔

( جڑی بوٹیوں کا انسائیکلوپیڈیا، تاج المفردات)

]]>